ابنا: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آج بدھ کی شام یونیورسٹی ٹیچرز، اسٹوڈنٹس اور کارکنان کے علاوہ وزارت تعلیم کے کارکنان اور عام شہریوں نے مل کر حکومت مخالف بڑے مظاہرے کا آغاز کر دیا ہے۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف قسم کے نعرے لکھے ہوئے تھے مثلا "مفت تعلیم سب کیلئے"، "یونیورسٹیز تجارتی مراکز نہیں"، "فوجی بجٹ کو کم کرو عوامی بجٹ کو نہیں"، "جنگ ختم کرو" وغیرہ۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی تعداد میں ہر لحظہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلباء اور عام شہریوں نے لندن یونیورسٹی کے سامنے اکٹھے ہونے کے بعد شہر کے اقتصادی مرکز "سٹی" کی جانب بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین چاہتے ہیں ٹرے فالگار چوک اور شہر کی مرکزی سڑکوں سے گزرتے ہوئے سینٹ پال چرچ تک جا پہنچیں جہاں گذشتہ چار ہفتے سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے کے قائدین کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے لاکھوں افراد مظاہرے میں شرکت کریں گے اور اس طرح حکومتی پالیسیوں خاص طور پر یونیورسٹیز کی فیسیں بڑھانے اور تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کرنے کے حکومتی فیصلوں سے اپنی مخالفت کا اظہار کریں گے۔ لندن کی مٹروپلٹن پولیس نے چار ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو مامور کیا ہے کہ مظاہرے کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ اس وقت کئی سو پولیس اہلکار مظاہرین کو گھیرے میں لئے ہوئے ہیں اور شہر کی مختلف سڑکوں پر بڑی تعداد میں پولیس کی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں۔حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف بننے والی طلباء تنظیم نے ایک بیانیہ صادر کیا ہے جس میں تاکید کی گئی ہے کہ پولیس کی جانب سے پلاسٹک کی گولیاں استعمال کرنے کی دھمکی ہمیں مرعوب نہیں کر سکتی۔ اس تنظیم نے جو آج کے مظاہرے کی قیادت بھی کر رہی ہے پولیس کی جانب سے ایسی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلباء کو اس قسم کی دھمکیاں دینا اشتعال آمیز اقدام ہے۔یاد رہے لندن پولیس نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کے روز انجام پانے والے احتجاجی مظاہرے میں شدت پسندی کی صورت میں اسے پلاسٹک کی گولیاں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ طلباء نے اعلان کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے استعمال کئے جانے والے مختلف ہتھکنڈے جیسے گھوڑوں کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش، انکا محاصرہ اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال انتہائی ظالمانہ اور غیرانسانی اقدامات ہیں جو گذشتہ سال لندن مظاہروں میں بھی وسیع پیمانے پر استعمال کئے گئے۔طلباء تنظیموں کے علاوہ برطانیہ کی تنظیم انٹی وار، سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف تنظیم "لندن پر قبضہ کرو" اور یونیورسٹی کے دسیوں پروفیسرز اور لیکچررز نے بھی اس مظاہرے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس سال لندن میں ہونے والے اکثر مظاہروں کا رخ شہر کے اقتصادی مرکز "سٹی" کی جانب رہا ہے تاکہ اسٹوڈنٹس اس طرح سرمایہ داری کے خلاف تحریک کی حمایت کا اعلان بھی کر سکیں اور شہر کے مرکز میں دھرنا دینے والے افراد کا ساتھ بھی دے سکیں۔یاد رہے گذشتہ سال خزاں کے آخر اور سردیوں کے شروع میں بھی لندن میں بڑے پیمانے پر اسٹوڈنٹس کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرے کئے گئے تھے جو پولیس کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال کی وجہ سے شدت اختیار کر گئے تھے اور دسیوں طلباء زخمی اور گرفتار بھی ہو گئے تھے۔
...............
/169